رات کے وقت، ندی یا درختوں کے آس پاس ہر کسی نے کبھی نہ کبھی ننھی ٹمٹماتی روشنیاں تو ضرور دیکھی ہونگی۔ نانی اماں کہتی تھیں کہ یہ پریوں کے بچے ہیں جو رات کے وقت کھیلنے آتے ہیں۔ صوفی حضرات کے متعلق یہ پاک لوگوں کی روحیں ہیں جو رات کو سیر کرنے آتی ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ “آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ!”۔۔۔ غرض ہر کوئی اس حسین منظر کو اپنے خیال کے حساب سے ترجمہ کرتا ہے۔ اصل میں یہ جگمگ کرتے جگنو ہیں جو سورج ڈھلنے پر نکلتے ہیں۔ انہیں Firefly بھی کہتے ہیں، انکے جسم میں ایک خاص کیمیائی ردء عمل کے نتیجے میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ جگنو یا تمام جاندار اجسام کی روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت Bioluminescence کہلاتی ہے۔

جگنو کے جسم میں دو کیمیائی مواد ہوتے ہیں، لوسفیرین (Luciferin) اور لوسیفیریز (Luciferase)۔ لوسفیرین ’’جگنو کی لالٹین‘‘ کے لیے تیل کا کام دیتا ہے، جبکہ لوسیفیریز ایک پروٹین ہے جو اس روشنی کو جلائے رکھتی ہے۔ جب جگنو سانس لیتا ہے، تو سانس کی نالی کے ذریعے ہوا لوسیفیرین کو چھوتی ہے۔ ہوا لگتے ہی لوسیفیرین شعلے کی صورت میں جل کر روشنی پیدا کرتا ہے۔ جگنو بلکل ایک بٹن کی طرح اس روشنی کو اپنی مرضی سے جلا اور بند کرسکتے ہیں۔ عام روشنی کے برعکس جو عموماً گرم ہوتی ہے، جگنو کی روشنی ٹھنڈی ہوتی ہے۔

سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک جگہ پر بہت زیادہ جگنو جمع ہوجائیں تو کہا جاتا ہے کہ اس روشنی میں کتاب پڑھنا ممکن ہو سکتا ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.